কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪৬২৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں کو چھوڑنا بھی ہجرت ہے
46877 فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے، لیکن ایمان، نیت اور جہاد پھر بھی باقی ہیں اور عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ حرام ہے۔۔ رواہ الحسن بن سفیان والبغوی والباوردی وابن السکن وابن مندہ وابن قانع والطبرانی و ابونعیم عن الحارث ابن غزیۃ الانصاری
46277- "لا هجرة بعد الفتح، ولكن إنما هو الإيمان والنية والجهاد؛ ومتعة النساء حرام. " الحسن بن سفيان، والبغوي، والباوردي وابن السكن وابن منده، وابن قانع، طب، وأبو نعيم - عن الحارث ابن غزية الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہوں کو چھوڑنا بھی ہجرت ہے
46278 فتح کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ رواہ عبدالرزاق عن انس
46278- "لا هجرة بعد الفتح. " عب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الھجر تین۔۔۔از قسم افعال
46279 حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا دراں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار (ثور) میں تھے : یارسول اللہ ! ان کفار میں سے اگر کسی کی نظر اپنے قدموں پر پڑجائے تو یقیناً ہمیں دیکھ پائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! ان دو کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ رواہ ابن سعد وابن شیبۃ واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم عن الترمذی وابن جریر فی تھذیب الآثار وابن المنذر وابوعوانۃ وابن حبان وابن مردویہ و ابونعیم فی العرفۃ
46279- عن أبي بكر قال: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم وهو في الغار: لو أن أحدهم نظر إلى قدميه لأبصرنا تحت قدميه، فقال: "يا أبا بكر! ما ظنك باثنين الله ثالثهما. " ابن سعد، ش، حم، خ، م، ت، وابن جرير في تهذيب الآثار، وابن المنذر، وأبو عوانة، حب، وابن مردويه، وأبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الھجر تین۔۔۔از قسم افعال
46280 حضرت ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ مشرکین میں سے ایک آدمی آیا حتیٰ کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف منہ کرکے پیشاب کرنے لگا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا یہ آدمی ہمیں نہیں دیکھ پاتا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ شخص ہمیں دیکھ سکتا تو وہ ہماری طرف منہ کرکے پیشاب نہ کرتا یعنی یہ دونوں حضرت اس وقت غار ثور میں تھے۔ رواہ ابویعلی وضعف
46280- عن أبي بكر قال: جاء رجل من المشركين حتى استقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم بعورته يبول فقلت: يا رسول الله! أليس الرجل يرانا؟ قال: "لو رآنا لم يستقبلنا بعورته - يعني وهما في الغار. "ع، وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتاب الھجر تین۔۔۔از قسم افعال
46281 حضرت ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو غار کی طرف آئے ہوئے دیکھا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر اس شخص نے اپنے قدموں پر نظر ڈال دی یقیناً ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ (رض) نے فرمایا : ہرگز نہیں چونکہ فرشتوں نے اس کے آگے پردہ کر رکھا ہے تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ شخص ہماری طرف منہ کرکے پیشاب کرنے بیٹھ گیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا۔ اے ابوبکر ! اگر یہ ہمیں دیکھ سکتا ایسا ہرگز نہ کرتا۔ رواہ ابونعیم فی الدلائل من طریق آخر
46281- عن أبي بكر قال: رأيت رجلا مواجه الغار، فقلت: يا رسول الله! إنه لو نظر إلى قدميه - لرآنا، قال: "كلا! إن الملائكة تستره، فلم ينشب الرجل أن قعد يبول مستقبلنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر! لو كان يراك ما فعل هذا. " أبو نعيم في الدلائل من طريق آخر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46282 حضرت ابوبکر (رض) کی روایت ہے کہ جب وہ دونوں حضرات غار ثور میں پہنچے تو حضرت ابوبکر (رض) نے غار میں ایک سوراخ دیکھا جس پر اپنے پاؤں رکھ دیئے اور عرض کیا : اگر کوئی بچھو یا سانپ ہو تو اس کے ڈسے کا گزند مجھی کو پہنچے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ وابن المنذر وابوالشیخ و ابونعیم فی الدلائل
46282- عن أبي بكر أنهما لمن انتهيا إلى الغار فإذا جحر فألقمه أبو بكر رجليه وقال: يا رسول الله! إن كانت لدغة أو لسعة كانت في. "ش، وابن المنذر، وأبو الشيخ، وأبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46283 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جب ہم غار ثور میں داخل ہونے کے لیے اوپر چڑھ رہے تھے میں نے دیکھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں سے خون رس رہا تھا جب کہ میرے پاؤں چلنے کے عادی ہونے کی وجہ سے چٹان کی مانند تھے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ننگے پاؤں چلنے کے عادی نہیں تھے۔ رواہ ابن مردویہ
46283- عن عائشة قالت: قال أبو بكر: لو رأيتني ورسول الله صلى الله عليه وسلم إذ صعدنا الغار! فأما قدما رسول الله صلى الله عليه وسلم فتقطرتا دما، وأما قدماي فعادت كأنهما صفوان، قالت عائشة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتعود الحفية. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46284 عمرو بن حارث اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم میں سے کون سورت توبہ کی قرات کرے گا ؟ ایک شخص بولا : میں قرات کرتا ہوں فرمایا : پڑھو۔ چنانچہ جب وہ شخص اس آیت پر پہنچا۔ اذیقول لصاحبہ لا تحزن “ جب انھوں نے اپنے ساتھی سے کہا : غم نہ کرو حضرت ابوبکر صدیق (رض) روپڑے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! ان کا ساتھی میں ہی ہوں۔ رواہ ابن ابی حاتم
46284- عن عمرو بن الحارث عن أبيه أن أبا بكر الصديق قال: أيكم يقرأ سورة التوبة؟ قال رجل: أنا قال: اقرأ، فلما بلغ {إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ} بكى وقال: أنا والله صاحبه. "ابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46285 حبشی بن جنادہ کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر کوئی مشرک اپنا سر اوپر اٹھالیتا ہے تو ہمیں ضرور دیکھ لے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! غم نہ کیجئے چونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ رواہ ابن شاھین وفیہ حصن بن مخارق واہ
46285- عن حبشي بن جنادة قال قال أبو بكر: يا رسول الله لو أن أحد المشركين رفع رأسه لأبصرنا، فقال: "يا أبا بكر! لا تحزن إن الله معنا. " ابن شاهين، وفيه حصن بن مخارق واه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46286 حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے میرے والد عازب سے تیرہ (13) درہم کے بدلہ میں ایک زین خریدی ابوبکر (رض) نے والد صاحب سے فرمایا : براء سے کہو وہ اسے اٹھا کر میرے گھر تک پہنچا دے۔ والد نے کہا : نہیں۔ حتیٰ کہ آپ مجھے بتادیں کہ جب آپ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر پر نکلے تھے اس وقت آپ کے ساتھ کیا بیتی تھی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہم (اپنے گھروں سے) نکل پڑے ہم پورا دن اور پوری رات چلتے رہے حتیٰ کہ دوپہر کا وقت ہوگیا میں نے ادھر، ادھر دیکھا تکہ مجھے کوئی سایہ نظر آئے جس کے نیچے ہم پناہ لے سکیں چنانچہ یکایک ہم ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے میں اس کی طرف آگے بڑھا۔ دیکھا کہ اس کا کچھ سایہ نکل چکا ہے میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ درست کی اور آپ کے لیے ایک کپڑا بچھا دیا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ لیٹ جائیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیٹ گئے پھر میں وہاں سے تھوڑا آگے چل دیا تاکہ میں دیکھوں کہ ہماری تلاش میں تو کوئی نہیں آرہا ۔ اچانک بکریں کے ایک چرواہے پر میری نظر پڑی میں نے اس سے پوچھا : اے چرواہے ! تو کس کا غلام ہے ؟ چرواہے نے قریش کے ایک آدمی کا نام لیا کہ میں اس کا غلام ہوں میں اسے جانتا تھا ۔ میں نے کہا : کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ میں نے کہا : کیا تم مجھے دودھ دوھ کر دے سکتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں میں نے اسے دودھ دوھنے کا حکم دیا اس نے ایک بکری پکڑی، پھر میں نے اس سے کہا کہ بکری کے تھنوں سے غبار اچھی طرح جھاڑلو اس نے تھنوں سے غبار جھاڑ دیا پھر میں نے ہاتھوں سے غبار جھاڑنے کو کہا : اس نے ہاتھوں سے غبار جھاڑ دیا میرے پاس ایک برتن تھا جس کے منہ پر ایک کپڑا بندھا ہوا تھا چنانچہ اس نے میرے لیے کچھ دودھ دوہا، پھر میں نے برتن میں تھوڑا سا پانی ڈالا حتیٰ کہ برتن کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! دودھ پی لیں آپ نے دودھ نوش فرمایا حتیٰ کہ میں راضی ہوگیا۔ پھر میں نے عرض کیا : ہمیں یہاں سے کوچ کرنے کا وقت ہوچکا ہے۔ ہم وہاں سے کوچ کر گئے جب کہ لوگ ہماری تلاش میں تھے۔ ہمیں بجز سراقہ بن مالک بن جعشم کے کوئی نہیں پاسکا : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ شخص ہماری تلاش میں نکلا ہے جو ہمارے قریب پہنچ چکا ہے۔ آپ نے فرمایا : غم مت کرو چونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ حتیٰ کہ جب سراقہ ہمارے قریب ہوگیا حتیٰ کہ ہمارے اور اس کے درمیان ایک نیزے یا نیزوں یا تین نیزوں کا فرق رہ گیا تھا میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ شخص ہماری تلاش میں ہمارے پاس پہنچ چکا ہے۔ میں رونے لگا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں روتے ہو ؟ میں نے عرض کیا بخدا ! میں اپنے لیے نہیں روہا ہوں میں تو آپ کے رو رہا ہوں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے بددعا دی اور فرمایا : یا اللہ ! ہماری طرف سے تو جیسے چاہے اس سے نمٹ لے۔ چنانچہ اسی وقت سراقہ کا گھوڑا گھٹنوں تک پتھریلی زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ نے فوراً گھوڑے سے نیچے چھلانگ لگادی اور بولا : اے محمد ! میں جانتا ہوں کہ یہ آپ کے بددعا کا اثر ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ سے اب دعا کرو کہ مجھے اس مصیبت سے نجات عطا فرمائے اللہ کی قسم میں اپنے پیچھے کے جمع لوگوں کو آپ کی بابت عدم دستیابی کا یقین دلادوں گا یہ رہا میرا ترکش اس سے ایک تیر نکال میں اور یقیناً آپ کا گزر فلاں جگہ سے میری بکریوں کے پاس سے ہوگا ان بکریوں سے اپنی ضرورت پوری کرلینا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تیری بکریوں کی کوئی ضرورت نہیں پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے دعا کی اور وہ عذاب سے آزاد ہوگیا اور اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے چل پڑے میں آپ کے ہمراہ رہا حتیٰ کہ ہم رات کو مدینہ پہنچے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لوگ ملنے لگے لوگ راستوں اور گلیوں میں نکل آئے الغرض خدام اور بچوں تک سب ہی ہجوم کر آئے اور اللہ اکبر کے نعرے بلند ہونے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاچکے ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگئے ہیں لوگ آپس میں جھگڑنے لگے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس کے یہاں تشریف لے جائیں اس پر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آج رات بنو نجار جو کہ عبدالمطلب کے ماموں ہیں کے پاس ٹھہروں گا تاکہ میں ان کا احترام کرسکوں۔ صبح کو جہاں آپ کا حکم ملا وہاں پہنچ گئے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابن خزیمۃ والبیہقی فی شعب الایمان والبیہقی فی الدلائل
46286- عن البراء بن عازب قال: اشترى أبو بكر من عازب سرجا بثلاثة عشر درهما، فقال أبو بكر لعازب: مر البراء فيحمله إلى منزلي، فقال: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت حين خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت معه، فقال أبو بكر: خرجنا فأدلجنا فأحثثنا يومنا وليلتنا حتى أظهرنا وقام قائم الظهيرة فضربت ببصري هل أرى ظلا نأوي إليه، فإذا أنا بصخرة فأهويت إليها، فإذا بقية ظلها فسويته لرسول الله صلى الله عليه وسلم وفرشت له فروة وقلت: اضطجع يا رسول الله! فاضطجع، ثم خرجت هل أرى أحدا من الطلب، فإذا أنا براعي غنم، فقلت: لمن أنت يا غلام! فقال: لرجل من قريش، فسماه فعرفته، فقلت، فهل في غنمك من لبن؟ قال: نعم، قلت: هل أنت حالب لي؟ قال: نعم، فأمرته فاعتقل شاة منها ثم أمرته فنفض ضرعها من الغبار ثم أمرته فنفض كفيه من الغبار ومعي إداوة على فمها خرقة فحلب لي كثبة من اللبن، فصببت - يعني الماء - على القدح حتى برد أسفله، ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوافيته وقد استيقظ، فقلت: اشرب يا رسول الله! فشرب حتى رضيت، ثم قلت: هل أتى الرحيل! فارتحلنا والقوم يطلبوننا، فلم يدركنا أحد منهم إلا سراقة بن مالك بن جعشم على فرس له، فقلت: يا رسول الله! هذا الطلب قد لحقنا! فقال: "لا تحزن إن الله معنا، حتى إذا دنا منا فكان بيننا وبينه قدر رمح أو رمحين أو ثلاثة، قلت: يا رسول الله! هذا الطلب قد لحقنا! وبكيت، قال: لم تبكي؟ قلت: أما والله ما على نفسي أبكي ولكني أبكي عليك! فدعا عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "اللهم! أكفناه بما شئت، فساخت قوائم فرسه إلى بطنها في أرض صلدة، ووثب عنها، فقال: يا محمد! قد علمت أن هذا عملك، فادع الله أن ينجيني مما أنا فيه، فوالله لأعمين على من ورائي من الطلب، وهذه كنانتي فخذ منها سهما، فإنك ستمر بإبلي وغنمي في موضع كذا وكذا فخذ منها حاجتك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا حاجة لي فيها، ودعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطلق ورجع إلى أصحابه، ومضى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا معه حتى قدمنا المدينة ليلا، فتلقاه الناس، فخرجوا في الطرق وعلى الأجاجير فاشتد الخدم والصبيان في الطريق: الله أكبر! جاء رسول الله! جاء محمد؟ وتنازع القوم أيهم ينزل عليه! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنزل الليلة على بني النجار أخوال عبد المطلب لأكرمهم بذلك، فلما أصبح غدا حيث أمر. "ش، حم، خ، م 1 وابن خزيمة، هب، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬২৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46287 حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں : میں (ہجرت کے موقع پر) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ چل پڑا ہم عرب کی بستیوں میں سے ایک بستی کے قریب پہنچے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بستی کی ایک طرف ایک گھر دیکھا آپ اس کی طرف چل دیئے جب ہم اس گھر میں گئے وہاں صرف ایک عورت تھی وہ بولی : اے اللہ کے بندے ! میں عورت ہوں میرے ساتھ کوئی نہیں ہے جب تم کسی بستی میں جاؤ تو تمہیں بستی کے کسی بڑے آدمی کے پاس جانا چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بات کا جواب نہ دیا۔ یہ شام کا وقت تھا اتنے میں اس عورت کا ایک بیٹا بکریاں ہانکتے ہوئے آگیا۔ عورت نے اپنے بیٹے سے کہا : اے بیٹا ! یہ بکری اور چھری ان دو آدمیوں کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میری امی کہہ رہی ہے کہ اس بکری کو ذبح کرو، خود بھی کھاؤ اور ہمیں بھی کھلاؤ۔ چنانچہ جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : چھری واپس لے جاؤ اور میرے پاس کوئی برتن لاؤ لڑکا بولا : یہ بکری بانجھ ہوچکی ہے اور اس میں دودھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا جاؤ میرے پاس برتن تو لاؤ چنانچہ لڑکا گیا اور اپنے ساتھ برتن لیتا آیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن جھاڑے پھر دودھ دوہا حتیٰ کہ برتن بھر گیا پھر فرمایا کہ یہ دودھ اپنی ماں کے پاس لے جاؤ۔ چنانچہ اس عورت نے سیر ہو کر دودھ پیا، لڑکا برتن لے کر واپس آگیا آپ نے فرمایا : یہ بکری لے جاؤ اور دوسری لے آؤ آپ نے اس بکری کو بھی پہلی کی طرح دوہا پھر مجھے دودھ پلایا۔ پھر لڑکا ایک اور بکری لیتا آیا آپ نے اسے بھی پہلی کی طرح دوہا اور پھر خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ پیا ہم نے یہیں پر یہ رات گزاری پھر ہم (صبح ہوتے ہی) چل پڑے چنانچہ یہ عورت آپ کو بابرکت (مبارک) شخصیت کے نام سے پکارتی تھی اس عورت کی بکریاں بہت زیادہ بڑھ گئیں حتیٰ کہ مدینہ تک اس کی بکریوں کا شور وغل رہتا تھا (اس کے بعد) ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا یہیں سے گزر ہوا اس عورت کے بیٹے نے آپ (رض) کو دیکھا تو آپ کو پہچان لیا اور اپنی ماں سے کہنے لگا : اے امی ! یہ وہی شخص ہے جس کے ساتھ وہ بابرکت شخصیت ہمارے یہاں ٹھہری تھی چنانچہ لڑکے کی ماں کھڑی ہوئی اور کہنے لگی اے اللہ کے بندے ! تمہارے ساتھ وہ کوئی شخصیت تھی ؟ جواب دیا : کیا تم انھیں نہیں جانتی ہو ؟ عرض کیا : نہیں۔ فرمایا : وہ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ عورت نے عرض کیا : مجھے ان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ابوبکر (رض) عورت کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو کھانا کھلایا اور عطیہ عنایت فرمایا جب کہ عورت نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ پنیر اور دیہات کا کچھ سامان دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت کو تحفہ میں کپڑے پہنائے اور عطیہ دیا ۔ چنانچہ وہ عورت متاثر ہو کر اسلام لے آئی۔۔ رواہ البیہقی فی الدلائل وابن عساکر قال ابن کثیر مسندہ حسن۔ فائدہ : یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے اس عورت کا نام ام معبد (رض) ہے جو اسلام لے آئی تھی
46287- عن أبي بكر قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة فانتهينا إلى حي من أحياء العرب، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بيت متنحيا فقصد إليه، فلما نزلنا لم يكن فيه إلا امرأة فقالت: يا عبد الله! إنما أنا امرأة وليس معي أحد فعليكما بعظيم الحي إذا أردتما القرى! فلم يجبها، وذلك عند المساء فجاء ابن لها بأعنز له يسوقها، فقالت له: يا بني! انطلق بهذه العنز والشفرة إلى هذين الرجلين فقل لهما: تقول لكما أمي: اذبحا هذه، وكلا وأطعمانا، فلما جاء قال له النبي صلى الله عليه وسلم: "انطلق بالشفرة وجئني بالقدح، قال: إنها قد عزبت وليس لها لبن؟ قال: انطلق، فانطلق فجاء بقدح فمسح النبي صلى الله عليه وسلم ضرعها، ثم حلب حتى ملأ القدح، ثم قال انطلق به إلى أمك، فشربت حتى رويت، ثم جاء به فقال: انطلق بهذه وجئني بأخرى، ففعل بها كذلك، ثم سقى أبا بكر، ثم جاء بأخرى ففعل بها كذلك، ثم شرب النبي صلى الله عليه وسلم، فبتنا ليلتنا ثم انطلقنا، فكانت تسمية المبارك، وكثرت غنمها حتى جلبت جلبا إلى المدينة فمر أبو بكر الصديق فرآه ابنها فعرفه فقال: يا أمه! إن هذا الرجل الذي كان مع المبارك، فقامت إليه فقالت: يا عبد الله! من الرجل الذي كان معك، قال: وما تدرين ما هو؟ قالت: لا، قال: هو النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: فأدخلني عليه، فأدخلها عليه، فأطعمها وأعطاها، وأهدت له شيئا من أقط ومتاع الأعراب، فكساها وأعطاها؛ وأسلمت. "ق في الدلائل، كر، قال ابن كثير: سنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46288 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ رواہ النسائی وابویعلی وابن مندہ فی غرابت شعبہ و سعید بن المنصور
46288- عن عمر قال: لا هجرة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ن، ع، وابن منده في غرائب شعبة، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46289 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ہم مدینہ میں سخت انتظار میں دیتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس کب تشریف لائیں گے ۔ انصار صبح کو ایک ٹیلے پر چڑھ جاتے اور اس پر بیٹھ جاتے حتیٰ کہ سورج بلند ہوجاتا جب سورج بلند ہو کر تپش دینے لگتا لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے اسی دوران ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتنظار میں تھے اچانک ایک یہودی جو ٹیلے پر کھڑا تھا پکارنے لگا : اے جماعت عرب ! یہ ہیں تمہارے صاحب جن کا انتظار میں تم لگے ہوئے ہو۔ رواہ البزار وحسنہ الحافظ ابن حجر فی فوائد
46289- عن عمر قال: كنا قد استبطأنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في القدوم علينا وكانت الأنصار يغدون إلى ظهر الحرة فيجلسون عليها حتى يرتفع النهار، فإذا ارتفع النهار وحميت الشمس رجعت إلى منازلها، فكنا ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رجل من اليهود قد أوفى على أطم من آطامهم، فقال: يا معشر العرب! هذا صاحبكم الذي تنتظرون! ّوسمعت الوجبة في بني عمرو بن عوف. "البزار، وحسنه الحافظ ابن حجر في فوائده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46290 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : روحاء کے ماوراء اپنا مال مت رکھو اور نہ ہی ہجرت کے بعد واپس لوٹو مکہ کے چھوڑے ہوئے لوگوں کی بیویوں سے نکاح مت کرو بلکہ اپنی عورتوں سے ان کے گھروں میں نکاح کرو۔ رواہ المحاملی فی امالیہ
46290- عن ابن عمر أن عمر قال: لا تتخذوا من وراء الروحاء مالا، ولا ترتدوا على أعقابكم بعد الهجرة؛ ولا تنكحوا نساء طلقاء مكة، وأنكحوا نساءكم في بيوتهن. "المحاملي في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46291 حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ سر زمین ہجرت میں سات سو گنا زیادہ نفقہ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ رواہ ابن عساکر
46291- عن عثمان قال: النفقة في أرض الهجرة مضاعفة بسبعمائة ضعف. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46292 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل امین سے دریافت کیا : ہجرت میں میرے ساتھ کون ہونا چاہیے ؟ جبرائیل نے کہا : ابوبکر صدیق (رض) ۔ رواہ الحاکم
46292- عن علي قال: إن النبي صلى الله عليه وسلم قال لجبريل: من يهاجر معي؟ قال: أبو بكر الصديق. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46293 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے لیے نکلے آپ کے ساتھ ابوبکر (رض) بھی نکلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے سوا کسی پر اعتماد نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ غار میں داخل ہوئے۔ رواہ ابوبکر فی الغیلانیات
46293- عن علي قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم وخرج أبو بكر معه، فلم يأمن على نفسه غيره حتى دخلا الغار. "أبو بكر في الغيلانيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت صدیق اکبر (رض) کی قربانی
46394” مسند براء بن عازب “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے سب سے پہلے یہ حضرات ہمارے پاس تشریف لائے ہیں حضرت مصعب بن عمیر (رض) ، ابن ام مکتوم یہ دونوں حضرات ہمیں قرآن پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار (رض) ، بلال (رض) سعید (رض) آئے پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) بیس آدمیوں کے ہمراہ تشریف لائے ۔ پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو اتنا زیادہ خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد پر خوش ہوئے تھے آپ اس وقت تشریف لائے جب میں نے سورت ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پڑھ لی جو کہ اوساط مفصل میں سے ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
46294- "مسند البراء بن عازب" أول من قدم علينا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم مصعب بن عمير، وابن أم مكتوم، فجعلا يقرآننا القرآن، ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين، ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به، فما قدم حتى قرأت {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} في سور من المفصل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان
46295” مسند بشیر بن فدیک “ ابونعیم کہتے ہیں ان کی ایک ہی روایت ہے اوزاعی، زہری ، صالح بن بشیر بن فدیک سے مروی ہے کہ ان کے دادا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! لوگوں کا خیال ہے کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ملاک ہوگیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے فدیک ! نماز قائم کرو، زکوۃ ، دو برائیاں چھوڑ دو اپنی قوم کی سرزمین میں جہاں چاہو رہو تم مہاجر ہوجائے گے۔ رواہ البغوی وابن مندہ و ابونعیم وقال ذکرہ عبداللہ بن عبدالجار الخبائری عن الحارث بن عبیدۃ عن محمد بن ولید الزبیدہ عن الزھری فقال عن صالح بن بشیر عن ابیہ قال جاء فدیک
46295- "مسند بشير بن فديك" قال أبو نعيم: يقال إن له رواية - عن الأوزاعي وغيره عن الزهري عن صالح بن بشير بن فديك أن جده فديكا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إنهم يزعمون أن من لم يهاجر هلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يا فديك! أقم الصلاة، وآت الزكاة، واهجر السوء، واسكن من أرض قومك حيث شئت تكن مهاجرا. " البغوي، وابن منده، وأبو نعيم وقال: ذكره عبد الله بن عبد الجبار الخبائري عن الحارث بن عبيدة عن محمد بن وليد الزبيدي عن الزهري فقال عن صالح بن بشير عن أبيه قال: جاء فديك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩০৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان
46296 جریربجلی کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ خثعم کی طرف سریہ (لشکر) روانہ کیا لیکن لوگوں نے سجدہ کرکے اپنے آپ کو بچا لیا۔ (یعنی یہ ظاہر کیا کہ ہم مسلمان ہیں) لیکن صحابہ کرام (رض) نے ان کا عذر خاطر میں نہ لاتے ہوئی ان کا قتل عام شروع کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سا کی خبر کی گئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لشکر کو مقتولین کی نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان مقیم ہو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ کیوں ؟ فرمایا : کیا تم ان کی جلتی ہوئی آگ نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔ رواہ العسکری فی الامثال والبیہقی وفی شعب الایمان
46296- عن جرير البجلي قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية إلى خثعم، فاعتصم ناس منهم بالسجود، فأسرع فيهم القتل، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فأمر لهم النبي صلى الله عليه وسلم بنصف العقل، وقال: "أنا بريء من كل مسلم مقيم بين أظهر المشركين، قالوا: يا رسول الله! ولم؟ قال: لا تراآى ناراهما. " العسكري في الأمثال، هب".
tahqiq

তাহকীক: