কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪৬৩০৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان
46297 حضرت خالد بن ولید (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی ایک روایت نقل کرتے ہیں۔ رواہ العسکری
46297- عن خالد بن الوليد عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه. "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہجرت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان
46298 جنادہ بن امیہ ازدی (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں ہجرت کی چنانچہ ہجرت کے متعلق ہمارا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ ہم میں سے بعض کہنے لگے : ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے جب کہ بعض کہہ رہے تھے کہ ابھی منقطع نہیں ہوا۔ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور یہی مسئلہ آپ سے دریافت کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک کفار کے ساتھ قتال جاری رہے گا تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا۔۔ رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم
46298- عن جنادة بن أمية الأزدي قال: هاجرنا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فاختلفنا في الهجرة، فقال بعضنا: قد انقطعت، وقال بعضنا: لم تنقطع، فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألته عن ذلك، فقال: "لا تنقطع الهجرة ما قوتل الكفار. " الحسن بن سفيان، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46299 حارث بن خزیمہ بن ابی غنم انصاری کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) 14 ربیع الاول بروز سوموار (پیر) مدینہ منورہ تشریف لائے تھے جنگ بدر رمضان المبارک میں بروز سوموار ہوئی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی پندرہ (15) ربیع الاول بروز سوموار حلت فرمائی۔ رواہ ابونعیم
46299- عن الحارث بن خزمة بن أبي غنم الأنصاري قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة يوم الاثنين لأربع عشرة من ربيع الأول وكان يوم بدر يوم الاثنين من رمضان، وتوفي يوم الاثنين لخمس عشرة من ربيع الأول. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46300” مسند حبیش بن خالد بن اشعرخزاعی قدیدی جو کہ عاتکہ معبد کے بھائی ہیں۔ “ حزام بن ہشام بن حبیش بن خالد خزاعی اپنے والد اور دادا کے واسطہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو آپ اور ابوبکر (رض) اور مولائے ابوبکر عامر بن فہیرہ اکٹھے تھے ان حضرات کے رہبر عبداللہ بن اریقط لیثی تھے چنانچہ یہ حضرات ام معبد خزاعیہ کے خیمہ کے پاس سے گزرے ام معبد ایک قوی اور دلیر خاتون تھیں عموماً خیمے کے باہر چادر اوڑھ کر بیٹھ جاتی تھیں اور ادھر سے گزرنے والے مسافروں کو کھانا کھلاتی اور پانی پلاتی تھیں چنانچہ ان حضرات نے ام معبد سے دریافت کیا : کہ تمہارے پاس گوشت یا کھجوریں ہوں تو ہم خریدنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کے پاس کوئی چیز دستیاب نہ ہوسکی اتفاق سے زادراہ ختم ہوچکا تھا جب کہ اس بستی والے لوگ قحط کی حالت میں تھے ام معبد نے کہا : بخدا، اگر ہمارے پاس کچھ موجود ہوتا تو میں ہرگز آپ کو کسی کا محتاج نہ پاتی اتنے میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر ایک بکری پر پڑی جو خیمہ کے ایک کونے میں بندھی ہوئی تھی آپ نے فرمایا : ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟ عرض کیا اس بکری کو تھکن نے پیچھے کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس میں کچھ دودھ ہے ؟ عرض کیا : اس بکری کا دودھ دینا اس کے جنگل میں جانے سے زیادہ دشوار ہے۔ آپ نے فرمایا : مجھے اجازت دیتی ہو کہ میں اس کا دودھ دوہوں ۔ ام معبد نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھیں تو لیجئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسم اللہ کہہ کر تھنوں پر ہاتھ پھیر اور فرمایا : یا اللہ، ام معبد کو اس بکری سے برکت عطا فرما۔ چنانچہ بکری نے ٹانگیں پھیلا دیں کثرت سے دودھ دیا اور فرمان بردار ہوگئی آپ نے ان سے ایسا برتن مانگا جو ساری قوم کو سیراب کردے چنانچہ برتن لایا گیا آپ نے اس میں سیلاب کی طرح دودھ دوہا یہاں تک کہ جھاگ برتن کے اوپر آگئی چنانچہ وہ دودھ ام معبد نے پیا حتیٰ کہ وہ سیراب ہوگئیں پھر آپ نے صحابہ کرام (رض) کو پلایا وہ بھی سیراب ہوگئے سب سے آخر میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوش فرمایا : (چونکہ قوم کے ساقی کو آخر میں بینا چاہیے) سب نے پینے کے بعد دوبارہ پیا اور سب سیر ہوگئے آپ نے پھر پہلے کی طرح دوبارہ دوہا اور اس مرتبہ کا دودھ ام معبد کے پاس چھوڑ دیا (اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رفقاء کے ساتھ کوچ کر گئے) تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اتنے میں ام معبد کے شوہر ابو معبد اپنی بکریاں ہنکاتے ہوئے آگئے، جو دبلی پتلی تھیں اور اچھی طرح چل بھی نہیں سکتی تھیں گویا ان کی ہڈیوں میں گودا ہی نہیں رہا۔ (اور نہ ہی ان میں چربی تھی ابومعبد نے خیمہ میں دودھ دیکھ کر تعجب کیا اور پوچھا :) تمہیں یہ دودھ کہاں سے مل گیا جب کہ بکریاں چرنے کے لیے گھر سے بہت دور گئی ہوئی تھیں اور نہ ہی گھر پر کوئی دودھ دینے والی بکری تھی ام معبد نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ ہمارے پاس سے ایک بابرکت بزرگ گزرے ہیں جن کی یہ برکتیں تھیں۔ ابومعبد نے کہا میرے خیال میں یہ وہی قریش کے صاحب ہیں جن کی تلاش کی جارہی ہے اے ام معبد مجھے ذرا ان کی صفات تو بتاؤ۔ ام معبد نے کہا : میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا ہے جن کی صفائی اور پاکیزگی کی مثال نہیں ملتی ان کا چہرا نہایت نورانی ہے حسین و جمیل ہیں، آنکھوں میں کافی سیاہی ہے چلک کے بال خوب گھنے ہیں آواز میں بلندی ہے سیاہی کی جگہ میاں خوب تیز ہے سفیدی کی جگہ سفیدی تیز سے آبروئیں باریک ہیں اور آپس میں ملی ہوئی ہیں بالوں کی سیاہی بھی خوب تیز ہے گردن میں بلندی اور داڑھی میں گھنا پن ہے ، جب خاموش ہوتے ہیں تو ان پر وقار چھا جاتا ہے، اور جب ہنستے ہیں تو حسن کا غلبہ ہوجاتا ہے، گفتگو ایسی ہے جیسے موتیوں کی لڑی گررہی ہو شیریں گفتار ہیں دو ٹوک بات کرنے والے ہیں ، ایسے کم گو نہیں کہ جن سے مقصد ہی پورا نہ ہو اور نہ ہی فضول گو ہیں، دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ بارعب و حسین ہیں، قریب سے سب سے زیادہ شیریں گفتار اور جمیل ہیں ایسے متوسط اندام ہیں کہ تم درازی قدم کا عیب نہ لگاؤ گے اور نہ ہی کوئی آنکھ انھیں کوتاہ قد ہونے کی وجہ سے حقیر جانے گی، دو دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ معلوم ہوتے ہیں دیکھنے میں وہ تینوں میں سب سے زیادہ بارونق اور مقدار میں حسین ہیں ان کے رفقاء انھیں گھیرے رکھتے ہیں، جب کچھ فرماتے ہیں تو لوگ بغور آپ کا ۔ کلام سنتے ہیں، جب کوئی حکم دیتے ہیں تو سب ان کا حکم بجا لانے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں وہ مخدوم ہیں وہ نہ ترش رو ہیں اور نہ ہی زیادہ کو ابو معبد نے کہا ہو اللہ یہ قریش کے وہی صاحب ہیں جن کا ہم سے تذکرہ کیا گیا تھا۔ اے ام معبد ! اگر میں اس وقت موجود ہوتا ضرور درخواست کرتا کہ میں ان کی صحبت میں رہوں، اگر میں نے ایسا موقع پایا تو ضرور ایسا کروں گا۔ اسی دوران مکہ میں ایک غیبی آواز سنی گئی، جسے لوگ سنتے تو تھے لیکن آواز والے کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ کوئی یہ اشعار پڑھ رہا تھا : جزی اللہ رب الناس خیر جزاہ ۔ رفیقین قالا خیمتی ام معبد۔ اللہ تعالیٰ جو پروردگار ہے تمام لوگوں کا بہترین جزا دے ان دونوں رفیقوں کو جو ام معبد کے خیموں میں اترے ۔ ھما نزلالھا یا لھدی واتھدبہ۔ فقد فاز من امسبی رفیق محمد۔ وہ دونوں ام معبد کے پاس ہدایت لے کر اترے اور وہ ہدایت یافتہ ہوگئی اور جو محمد کا رفیق ہوا وہ کامیاب ہوگیا۔ فیا لقصی مازوی اللہ عنکم۔ نہ من فعال لا تجازی وسودد۔ اے قبیلہ اقصی تمہیں کیا ہوگیا اللہ نے تمہیں ایسے کام اور ایسی سرداری کی توفیق نہیں دی جس کی جزا مل سکے۔ لیھن بنی کعب مکان قتاتھم۔ ومقعد ھا للمومنین بمر صد۔ مبارک ہو بنی کعب کو ان کی عورت کا مقام اور اہل ایمان کے لیے اس کے ٹھکانا کا کام آنا۔ سلوا اختکم عن شانھا وانا ئھم۔ فانکم ان تسالوا الشاۃ تشھد۔ تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کا حال تو دریافت کرو اگر تم بکری سے بھی دریافت کرو گے تو بکری بھی گواہی دے گی۔ دعاھا بشاۃ حائل فتحلبت۔ علیہ صریحا ضرۃ الشاۃ مزبد۔ آپ نے اس سے بکری مانگی پس اس نے اس قدر دودھ دیا کہ کف سے بھرا ہوا تھا۔ فغادرھا رہنا لدیھا بجالب۔ یرددھا فی مصد رثم مورد۔ پھر وہ بکری آپ اسی کے پاس چھوڑ آئے جو ہر آنے اور جانے والے کے لیے دودھ نچوڑتی تھی۔

حضرت حسان بن ثابت (رض) کو جب ہاتف کے یہ اشعار پہنچے تو آپ (رض) نے اس کے جواب میں یہ اشعار فرمائے :

لقد خاب قوم غاب عنھم نبیھم

وقدس من یسری الیہ ویغتدی

البتہ خائب و خاسر ہوئے وہ لوگ جس میں ان سے ان کا پیغمبر چلا گیا اور وہ پاک ومقدس ہوگیا۔

ترحل عن قوم فضلت عقولھم

وحل علی قوم بنور مجدد

اس نبی نے ایسی قوم سے کوچ کیا جن کی عقلیں گم ہوچکی ہیں جب کہ ایک دوسری قوم کے پاس ایک نیانور لے کر اترے۔

ھداھم بہ بعد الضلال ربھم

وارشد ھم من یتبع الحق برشد

خدا نے گمراہی کے بعد اس نور سے ان کی رہنمائی کی اور جو حق کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پائے گا

وھل یستوی ضلال قوم تسکعوا

عمایتھم ھاربہ کل مھتد

اور کیا ہدایت پانے والے اور گمراہی میں گھرے ہوئے برابر ہوسکتے ہیں۔

وقد نزلت منہ علی اھل یثرب

رکاب ھدی حلت علیھم باسعد

اور اہل یثرب پر ہدایت کا قافلہ سعادتوں اور برکتوں کو لے کر اترا ہے۔

نبی یری مالا یری الناس حولہ

ویتلو کتاب اللہ فی کل مشھد

وہ نبی ہیں جنہیں وہ چیزیں نظر آتی ہیں کہ جو ان کے پاس بیٹھنے والوں کو نظر نہیں آتیں اور وہ ہر مجلس میں لوگوں کے سامنے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔

وان قال فی یوم مقالۃ غائب

فتصدیقھا فی الیوم اوفی ضحی الغد

اور اگر وہ کوئی غیب کی خبر سناتے ہیں تو آج ہی یا کل صبح تک اس کا صدق اور اس کی سچائی ظاہر ہوجاتی ہے۔

لیھن بنی کعب مکان فتاتھم

ومقعد ھا للمومنین بمرصد

مبارک ہو بنی کعب کو ان کی عورت کا مقام اور اہل ایمان کے لیے اس کے ٹھکانا کا کام آنا۔

لیھن ابابکر سعادۃ جدہ

بصحبتہ من اسعد اللہ یسعد

ابوبکر کو اپنے نصیب کی سعادت جو بوجہ صحبت آنحضرت انھیں حاصل ہوئی مبارک ہو جس کو اللہ تعالیٰ سعادت دیتا ہے وہی سعید ہوتا ہے۔ رواہ الطبرانی و ابونعیم وابن عساکر
46300- "مسند حبيش بن خالد بن الأشعر الخزاعي القديدي وهو أخو عاتكة أم معبد" عن حزام بن هشام بن حبيش بن خالد الخزاعي عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرج من مكة وخرج منها مهاجرا إلى المدينة هو وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر ابن فهيرة ودليلهما الليثي عبد الله بن الأريقط مروا على خيمتي أم معبد الخزاعية، وكانت برزة جلدة تحتبي بفناء القبة، ثم تسقى وتطعم فسألوها لحما وتمرا ليشتروه منها، فلم يصيبوا عندها شيئا من ذلك، وكان القوم مرملين مسنتين 1 فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شاة في كسر الخيمة، فقال: "ما هذه الشاة يا أم معبد؟ قالت: خلفها الجهد عن الغنم، قال: "فهل بها من لبن؛ قالت: هي أجهد من ذلك، قال: "أتأذنين أن أحلبها؛ قالت: بلى بأبي أنت وأمي! نعم إن رأيت بها حلبا فاحلبها، فدعا بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسح بيده ضرعها، وسمى الله عز وجل، ودعا لها في شاتها، فتفاجت 1 عليه ودرت واجترت، ودعا بإناء يربض 2 الرهط، فحلب فيها ثجا حتى علاه الهاء، ثم سقاها حتى رويت، وسقى أصحابه حتى رووا، وشرب آخرهم صلى الله عليه وسلم، ثم أراضوا، ثم حلب فيها ثانيا بعد بدء حتى ملأ الإناء، ثم غادره عندها، ثم بايعها، وارتحلوا عنها، فقلما لبثت حتى جاء زوجها أبو معبد يسوق أعنزا عجافا تساوكن 3 هزلا ضحى مخهن قليل، فلما رأى أبو معبد اللبن عجب وقال: من أين لك هذا اللبن يا أم معبد والشاء عازب 4 حيال 5 ولا حلوبة في البيت؟ قالت: لا، والله إلا أنه مر بنا رجل مبارك من حاله كذا وكذا، قال: صفيه لي يا أم معبد! فقالت: رأيت رجلا ظاهر الوضاءة، أبلج الوجه، حسن الخلق، لم تعبه ثجلة 1، ولم تزر به صعلة 2، وسيم قسيم 3، في عينيه دعج 4، وفي أشفاره وطف 5، وفي صوته صحل 6، وفي عنقه سطع 7، وفي لحيته كثاثة 8 أزج 1، أقرن 2، إن صمت فعليه الوقار، وإن تكلم سماه وعلاه البهاء، أجمل الناس وأبهاه من بعيد، وأحلاه وأحسنه من قريب، حلو المنطق، فصل، لا هذر ولا نزر، كأن منطقه خرزات نظم يتحدرن، ربع لا تشنؤه 3 من طول، ولا تقتحمه عين من قصر، غصن بين غصنين فهو أنظر الثلاثة منظرا، وأحسنهم قدرا، له رفقاء يحفون به، إن قال انصتوا لقوله، وإن أمر تبادروا إلى أمره، محفود محشود؛ لا عابس ولا مفند؛ قال أبو معبد: هو والله صاحب قريش الذي ذكر لنا من أمره ما ذكر بمكة، ولقد هممت أن أصحبه، ولأفعلن إن وجدت إلى ذلك سبيلا، فأصبح صوت بمكة عاليا، يسمعون الصوت ولا يدرون من صاحبه، وهو يقول:

جزى الله رب الناس خير جزائه ... رفيقين قالا خيمتي أم معبد هما نزلاها بالهدى واهتدت به ... فقد فاز من أمسى رفيق محمد

فيا لقصي ما زوى الله عنكم ... به من فعال لا تجازى وسؤدد

ليهن بني كعب مكان فتانهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد

سلوا أختكم عن شاتها وإنائها ... فإنكم إن تسألوا الشاة تشهد

دعاها بشاة حائل فتحلبت ... عليه صريحا ضرة الشاة مزبد

فغادرها رهنا لديها بحالب ... يرددها في مصدر ثم مورد

فلما أن سمع حسان بن ثابت بذلك شبب 1 يجيب الهاتف وهو يقول:

لقد خاب قوم زال عنهم نبيهم ... وقدس من يسري إليه ويغتدي ترحل عن قوم فضلت عقولهم ... وحل على قوم بنور مجدد

هداهم به بعد الضالة ربهم ... وأرشدهم من يتبع الحق يرشد

وهل يستوي ضلال قوم تسكعوا 1 ... عمايتهم هاد به كل مهتد

وقد نزلت منه على أهل يثرب ... ركاب هدى حلت عليهم بأسعد

نبي يرى ما لا يرى الناس حوله ... ويتلو كتاب الله في كل مسجد

وإن قال في يوم مقالة غائب ... فتصديقها في اليوم أو في ضحي الغد

ليهن بني كعب مكان فتاتهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد ليهن أبا بكر سعادة جده ... بصحبته من أسعد الله يسعد

"طب، وأبو نعيم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46301 ایاس بن مالک بن اوس اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) ہجرت کے لیے نکلے، مقام حجفہ میں ہمارے اونٹوں کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا : یہ کس کے اونٹ ہیں ؟ جواب دیا : کہ یہ قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کے ہیں، آپ نے ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : انشاء اللہ سلامتی میں رہیں گے۔ آپ نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے۔ جواب دیا : میرا نام مسعود ہے آپ نے ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : انشاء اللہ تم سعادت پالو گے۔ چنانچہ میرے والد آپ (رض) کے پاس آئے اور آپ کو سواری کے لیے ایک اونٹ پیش کیا۔۔ رواہ ابن العباس السراج فی تاریخہ و ابونعیم
46301- عن إياس بن مالك بن الأوس عن أبيه قال: لما هاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر مروا بإبل لنا في الجحفة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لمن هذه الإبل؟ قال: لرجل من أسلم، فالتفت إلى أبي بكر فقال: سلمت إن شاء الله تعالى! فقال: ما اسمك؟ فقال: مسعود، فالتفت إلى أبي بكر، فقال: سعدت إن شاء الله تعالى! فأتاه أبي فحمله على جمل. "ابن العباس السراج في تاريخه، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46302 خالد بن سعید بن عاص اور ان کے بھائی ہجرت کرکے حبشہ گئے ہوئے تھے جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس (مدینہ) لوٹے تو آپ سے ملاقات کی جب کہ جنگ بدر کو ایک سال گزر چکا تھا۔ ان حضرات نے جنگ بدر میں غیر حاضری پر غم کا اظہار کیا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں غمزدہ ہوتے ہو چونکہ لوگوں کو ایک ہجرت کا ثواب ملا ہے جب کہ تمہیں دو ہجرتوں کا ثواب ملا ہے۔ تم نے ایک ہجرت صاحب حبشہ (نجاشی) کی طرف کی پھر تم صاحب حبشہ کے پاس سے میرے پاس ہجرت کرکے آئے ہو۔ رواہ ابن مندہ وابن عساکر
46302- عن خالد بن سعيد بن العاص وكان من مهاجرة الحبشة هو وأخوه عمرو لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم تلقاهم حين دنوا منه، وذلك بعد بدر بعام، فحزنوا أن لا يكونوا شهدوا بدرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "وما تحزنون! إن للناس هجرة واحدة ولكم هجرتان: هاجرتم حين خرجتم إلى صاحب الحبشة، ثم جئتم من عند صاحب الحبشة مهاجرين إلي. " ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46303” مسند خالد بن ولید “ حضرت خالد بن ولید (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قبیلہ خثعم کی طرف بھیجا۔ چنانچہ قبیلہ والوں نے سجدہ کرکے پناہ لینی چاہی لیکن ہم نے ان کا قتل عام کیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے نصف دیت کا فیصلہ کیا پھر فرمایا کہ میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے ساتھ رہ رہا ہو تم ان کی آگ اکٹھے جلتی ہوئی نو دیکھو۔ رواہ الطبرانی
46303- "من مسند خالد بن الوليد" بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى ناس من خثعم، فاعتصموا بالسجود، فقتلهم فوادهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بنصف الدية ثم قال: "أنا بريء من كل مسلم أقام مع المشركين لا تراأى ناراهما. " طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بروز پیر مدینہ منور ہ پہنچنا
46304 حضرت خالد بن ولید (رض) کی روایت ہے کہ حضرت واثلہ بن اسقع (رض) کہتے ہیں : میں اسلام لانے کی غرض سے اپنے گھر سے چل پڑا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا چنانچہ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں تھے میں نے آخری صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوئے میرے پاس آئے میں آخری صف میں بیٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا : تمہاری کیا حاجت ہے ؟ میں نے عرض کیا : میں اسلام لانے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔ فرمایا : اسلام تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔ فرمایا : کیا تم ہجرت کرکے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں : فرمایا : دیہاتی کی ہجرت کی ہے یا یقینی ہجرت کی ہے ؟ میں نے عرض کیا : ان دونوں میں سے کونسی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا یقینی ہجرت افضل ہے آپ نے فرمایا : یقینی ہجرت یہ ہے کہ تم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ثابت قدم رہو اور دیہاتی کی ہجرت یہ ہے کہ تم واپس اپنے گاؤں میں چلے جاؤ۔ آپ نے فرمایا : تمہیں ہر حالت میں اطاعت کرنی چاہے خواہ تنگی ہو یا آسانی من کو گوارا گزرے یا ناگوار گزرے۔ تم واپس چلے جاؤ۔ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا میں نے بھی اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جب آپ نے دیکھا کہ میں اپنے لیے کسی چیز کو نہیں اپنا رہا ہوں فرمایا : تم کس چیز کی استطاعت رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا : میں کسی چیز میں استطاعت رکھتا ہوں۔ آپ نے میرے ہاتھ پر مارا۔ رواہ ابن جریر
46304- عن خالد بن الوليد عن واثلة بن الأسقع قال: خرجت من أهلي وأريد الإسلام فقدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في الصلاة فصففت في آخر الصفوف فصليت بصلاتهم، فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الصلاة انتهى إلي وأنا في آخر الصفوف فقال: "ما حاجتك؟ قلت: الإسلام، قال: هو خير لك، قال: وتهاجر؟ قلت: نعم، قال: هجرة البادي أو هجرة الباتي؟ قلت: أيتها خير؟ قال: هجرة الباتي، قال: وهجرة الباتي أن تثبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهجرة البادي أن يرجع إلى باديته، قال: وعليك الطاعة في عسرك ويسرك ومنشطك ومكرهك وأثرة عليك! قلت: نعم، فقدم يده وقدمت يدي، فلما رآني لا أستثني لنفسي شيئا، قال: فيما استطعت، فقلت فيما استطعت، فضرب على يدي. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46305 محمد بن سلیمان بن سلیط انصاری کہتے ہیں مجھے میرے والد نے دادا سے یہ حدیث سنائی ہے۔ میرے دادا سلیط بدری صحابی ہیں کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے لیے تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ابوبکر صدیق (رض) اور عامربن فہیرہ تھے۔ رواہ ابن عساکر
46305- عن محمد بن سليمان بن سليط الأنصاري حدثني أبي عن أبيه عن جده سليط وكان بدريا قال لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في الهجرة ومعه أبو بكر الصديق وعامر بن فهيرة.... 1 "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46306 ابن سعد، عمرو بن عاصم، حماد بن سلمہ، علی بن زید کی سلسلہ سند سے ابو طفیل (رض) کی روایت ہے کہ غار ثور والی رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلاش کرنے والوں میں، میں بھی شامل تھا چنانچہ میں غار کے دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا، مجھے معلوم نہیں تھا اندر کوئی ہے یا نہیں۔ (رواہ ابن عساکر وقال ابن سعد : ھذا الحدیث غلط۔ چونکہ غار ثور والی رات تک یہ پیدا نہیں ہوئے تھے ممکن ہے یہ کسی اور کی روایت نقل کررہے ہوں اور ان سے روایت نقل کرنے والے کو ہم ہوگیا ہو) ۔
46306- ابن سعد انبأنا عمرو بن عاصم حدثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أبي الطفيل قال: كنت أطلب النبي صلى الله عليه وسلم فيمن يطلبه ليلة الغار فقمت على باب الغار وما أدري فيه أحد أم لا. "كر، قال ابن سعد، هذا الحديث غلط، أبو الطفيل لم يولد تلك الليلة، وينبغي أن يكون حدث بالحديث عن غيره، فأوهم الذي حمله عنه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩১৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46307 ابومعبدخزاعی کی روایت ہے کہ ہجرت والی رات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے تشریف لے گئے۔ رواہ سعد وابن مندہ وابن عساکر
46307- عن أبي معبد الخزاعي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ليلة هاجر من مكة. "ابن سعد، وابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46308” مسند ابی موسیٰ اشعری “ حضرت عمر بن خطاب (رض) کی حضرت اسماء بنت عمیس سے ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا : تم بہت اچھی قوم ہوتے اگر ہم ہجرت میں تمہارے اوپر سبقت نہ لے چکے ہوتے۔ حضرت اسماء نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : بلکہ تم نے دو مرتبہ ہجرت کی ہے، ایک مرتبہ سر زمین حبشہ کی طرف اور دوسری مرتبہ مدینہ کی طرف۔۔ رواہ الطبرانی و ابونعیم
46308- "مسند أبي موسى الأشعري" لقي عمر بن الخطاب أسماء بنت عميس فقال: نعم القوم أنتم لولا أنا سبقناكم بالهجرة! فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: "بل لكم الهجرة مرتين: هجرة إلى أرض الحبشة، وهجرة إلى المدينة. " ط، وأبي نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46309 حضرت ابوموسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکہ سے نکل جانے کی خبر پہنچی ہم اس وقت یمن میں تھے ، میں اپنے قوم کے دوستوں کے ساتھ چل پڑا ان کی تعداد باون یا ترپین (53, 52) تھی جب کہ میں ان سب میں سے چھوٹا تھا ہماری کشتی نے ہمیں سرزمین حبشہ میں نجاشی کے پاس لاڈلا۔ وہاں جعفر بن ابی طالب (رض) اور ان کے ساتھیوں سے ہماری ملاقات ہوئی، جعفر (رض) نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہیں اقامت کا حکم دیا ہے، لہٰذا تم بھی ہمارے ساتھ مقیم ہوجاؤ، چنانچہ ہم بھی ان کے ساتھ مقیم ہوگئے پھر ہم سب مدینہ ہجرت کرکے آگئے اور فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہماری ملاقات ہوئی آپ نے مال غنیمت سے ہمیں بھی حصہ دیا اور فرمایا : اے کشتی والو : تمہاری دو ہجرتیں ہوگئیں۔ رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم
46309- عن أبي موسى قال: بلغنا خروج النبي صلى الله عليه وسلم ونحن باليمن، فخرجنا أنا وإخوان له وأنا أصغرهم في ثلاثة أو اثنين وخمسين رجلا من قومي فألقتنا سفينتنا إلى النجاشي بالحبشة، فوافقنا جعفر بن أبي طالب وأصحابه عنده فقال جعفر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثنا ههنا وأمرنا بالإقامة فأقيموا معنا، فأقمنا معه حتى قدمها جميعا فوافينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر، فأسهم لنا وقال: "يا أهل السفينة! لكم أنتم هجرتان. " الحسن بن سفيان، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46310 عبداللہ بن سعدی کی روایت ہے کہ میں نبی سعد بن بکر کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ہم سات یا آٹھ آدمی تھے جب کہ میں ان سب میں عمر میں چھوٹا تھا میرے ساتھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے میری حاجت کے متعلق خبردیں، آپ نے فرمایا : تمہاری حاجت کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگوں کو کہنا ہے کہ ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ آپ نے فرمایا : تمہاری حاجت ان سب کی حاجتوں سے بہتر ہے جب تک کفار کے ساتھ قتال جاری رہے گا ہجرت منقطع نہیں ہوگی۔ رواہ ابن مندہ وابن عساکر
46310- عن عبد الله بن السعدي قال: وفدت في نفر من بني سعد بن بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعة أو ثمانية وأنا من أحدثهم سنا، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقضوا حوائجهم وخلفوني في رحل لهم فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله! أخبرني عن حاجتي، فقال: "م احاجتك؟ قلت: رجال يقولون: قد انقطعت الهجرة! فقال: أنت خيرهم حاجة - أو حاجتك خير من حاجاتهم - لا تنقطع الهجرة ما قوتل الكفار. " ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46311 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بستر پر حضرت علی (رض) سوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر اوڑھ لی جب کہ مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انتظار میں تھے اتنے میں ابوبکر (رض) تشریف لائے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ! آگے سے حضرت علی (رض) نے چادر کے نیچے سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا : میں رسول اللہ نہیں ہوں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیر میمون پہنچ چکے ہیں، ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے گئے جب کہ مشرکین حضرت علی (رض) کی تاڑ میں تھے اور حضرت علی برابر پیچ وتاب کھا رہے تھے جیسا کہ کسی کو بخار ہو۔ جب صبح ہوئی مشرکین کہنے لگے ہم تو محمد کی تاڑ میں تھے جب کہ انھیں تو پیچ وتاب کی شکایت نہیں تھی ہم تمہاری طرف سے اس بات کو اوپری سمجھتے تھے۔ رواہ ابونعیم فی المعرفۃ وفیہ ابوبلج وقال البخاری : فیہ نظر
46311- عن ابن عباس قال: نام علي على فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم وتسجى بثوبه، وكان المشركون يرمون رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاء أبو بكر فقال: أي رسول الله! فأخرج علي رأسه فقال: لست برسول الله، أدرك رسول الله ببئر ميمون، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل معه، فكان المشركون يرمون عليا فيتضور 1، فلما أصبح فقالوا: إنا كنا نرمي محمدا فلا يتضور وقد استنكرنا ذلك منك. "أبو نعيم في المعرفة، وفيه أبو بلج، قال خ: فيه نظر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46312 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ صفوان بن امیہ (رض) مکہ میں اوپر کے حصہ میں تھے ان سے کہا گیا کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ۔ صفوان (رض) نے کہا : میں اس وقت تک اپنے گھر واپس نہیں جاؤں گا۔ جب تک میں ہجرت کرکے مدینہ پہنچ جاؤں۔ چنانچہ صفوان (رض) مدینہ آگئے اور حضرت عباس بن عبدالمطلب کے یہاں ٹھہرے۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا : اے ابو وھب ! تم کیوں آئے ہو ؟ عرض کیا : مجھ سے کہا گیا ہے کہ جو شخص ہجرت نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو وہب ! بطحاء مکہ واپس چلے جاؤ اور اپنے گھر میں رہو چونکہ ہجرت کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ لیکن جہاد ہے اور نیت ہے لہٰذا جب تم سے جہاد میں نکلنے کے لیے مطالبہ کیا جائے تو فوراً نکلو۔۔ رواہ ابن عساکر
46312- عن ابن عباس قال: قيل لصفوان بن أمية وهو بأعلى مكة إنه لا دين لمن لم يهاجر، فقال: لا أصل إلى بيتي حتى أقدم فقدم المدينة فنزل على العباس بن عبد المطلب ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ما جاء بك يا أبا وهب؟ قال: قيل إنه لا دين لمن لم يهاجر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ارجع أبا وهب إلى أباطح مكة فقروا على مسكنكم، فقد انقطعت الهجرة ولكن جهاد ونية، فإن استنفرتم فانفروا. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46313 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ کفار ایک جگہ جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے کاش میں ایک شہر جسے دمشق کہا جاتا ہے میں مقام غوطہ میں ہوتا حتیٰ کہ میں موضع مستغاث انبیاء میں آتا، جہاں آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، میں اپنے رب سے سوال کرتا کہ میری قوم کو ہلاک کردے چونکہ وہ ظالم ہیں اتنے میں آپ کے پاس جبرائیل تشریف لائے اور کہا : اے محمد ! مکہ کی کسی غار میں جاؤ اور اس میں پناہ لو بلاشبہ غار تمہارے لیے قوم سے بچنے کی محفوظ پناہ گاہ ہے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر (رض) کے ہمراہ نکل پڑے ، حتیٰ کہ پہاڑ پر پہنچ گئے جس میں ایک غار پائی جس میں کثرت سے حشرات الارض تھے۔ رواہ ابن عساکر
46313- عن ابن عباس سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اجتمع الكفار يتشاورون في أمري، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ليتني بالغوطة بمدينة يقال لها دمشق حتى آتى الموضع مستغاث الأنبياء حيث قتل ابن آدم أخاه فأسأل الله أن يهلك قومي فإنهم ظالمون! فأتاه جبريل فقال يا محمد! ائت بعض جبال مكة فأو بعض غاراتها، فإنها معقلك من قومك، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر حتى أتيا الجبل فوجدا غارا كثير الدواب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ہمسفر تھے
46314 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے اپنی بیوی اسماء بنت عمیس (رض) کے ساتھ سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور حبشہ ہی میں ان کے دو بیٹے عبداللہ اور محمد پیدا ہوئے تھے۔ رواہ ابن مندہ وقال غریب ھذا لاسناد وابن عساکر
46314- عن ابن عباس قال: خرج جعفر بن أبي طالب إلى أرض الحبشة ومعه امرأته أسماء بنت عميس، فولدت له بأرض الحبشة عبد الله ومحمدا ابني جعفر. "ابن منده وقال غريب بهذا الإسناد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46315 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کی تلاش میں تھے وہ پہاڑ پر چڑھے قریب تھے کہ غار میں داخل ہوجاتے انھیں دیکھ کر ابوبکر (رض) نے کہا : دشمن ہمارے پاس پہنچ چکا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر غم نہ کرو یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے، چنانچہ آپ کا پیچھا نہ کرسکے اور دائیں بائیں چلے گئے۔ رواہ ابن شاھین
46315- عن ابن عباس قال: إن الذين طلبوا النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر صعدوا الجبل فلم يبق إلا أن يدخلوا، فقال أبو بكر: أتينا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا بكر! لا تحزن، إن الله معنا، وانقطع الأثر فذهبوا يمينا وشمالا. "ابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৬৩২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غارثور میں دشمن کو نظر نہ آنا
46316 اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرے والد (ابوبکر (رض)) غار میں تھے ان کے پاس کھانا میں ہی لے جایا کرتی تھی، چنانچہ ایک دن عثمان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میں مشرکین سے آپ کے متعلق اذیت بھری باتیں سنتا ہوں، جنہیں سن کر صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے ، لہٰذا آپ مجھے کہیں بھیج دیں تاکہ میں یہاں سے چلا جاؤں میں ان مشرکین کو محض اللہ کی خاطر ضرور چھوڑ دوں گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے عثمان ! تم نے پختہ عزم کرلیا ہے ؟ عرض کیا : جی ھاں۔ فرمایا : تم حبشہ میں نجاشی کے پاس چلے جاؤ چونکہ وہ بڑا وفادار ہے اور اپنے ساتھ رقیہ کو بھی لیتے جاؤ اسے اپنے پیچھے مت چھوڑ کر جاؤ۔ اور مسلمانوں میں سے جس کی بھی تمہاری جیسی رائے ہو وہ بھی چلا جائے اور وہ بھی اپنے ساتھ اپنی عورتوں کو لے کر جائیں چنانچہ عثمان (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الوداع کہا اور آپ کے ہاتھ مبارک چومے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عثمان (رض) کا پیغام ملا وہ یہ کہ انھوں نے کہا : میں آج رات نکل جاؤں گا اور ہم ایک یا دو راتیں جدہ قیام کریں گے اگر آپ سے تاخیر ہوجائے تو میں جزیرہ باضع میں چلا جاؤں گا۔ اسمائ (رض) کہتی ہیں یہ پیغام میں ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا : عثمان اور رقیہ نے کیا کیا ؟ میں نے جواب دیا : وہ دونوں جاچکے ہیں فرمایا : کیا وہ جاچکے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ پھر آپ نے ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اسماء کہتی ہے کہ عثمان اور رقیہ جاچکے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابراہیم اور لوط کے بعد وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے۔ رواہ ابن عساکر
46316- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: كنت أحمل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبى وهما في الغار، فجاء عثمان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إني أسمع من المشركين من الأذى فيك ما لا صبر عليه، فوجهني وجها أتوجه فلأهجرنهم في ذات الله! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "أزعمت يداك يا عثمان؟ قال: نعم، قال: فليكن وجهك إلى هذا الرجل بالحبشة - يعني النجاشي، فإنه ذو وفاء، واحمل معك رقية فلا تخلفها، ومن رأى معك من المسلمين مثل رأيك فليتوجهوا هناك، وليحملوا معهم نساءهم، ولا يخلفوهم، فودع عثمان نبي الله صلى الله عليه وسلم وقبل يديه، فبلغ عثمان رسالة رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال لهم: إني خارج من تحت ليلتي، ونقيم لكم بجدة ليلة أو ليلتين، فإن أبطأتم فوجهي إلى باضع - جزيرة في البحر - قالت: فحملت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: ما فعل عثمان ورقية؟ قلت: قد سارا فذهبا، فقال: قد سارا فذهبا؟ قلت: نعم، فالتفت إلى أبي بكر فقال: زعمت أسماء أن عثمان ورقية قد سارا فذهبا، والذي نفسي بيده إنه لأول من هاجر بعد إبراهيم ولوط. "كر
tahqiq

তাহকীক: