আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩৩৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا ؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی ؟ کہ دباغت سے تو کھال پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا فَقَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّ دِبَاغَ الْأَدِيمِ طُهُورُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو مجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات ؟ فرمایا مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے جمرات کو چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات ؟
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنِّي رَمَيْتُ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ قَالَ مَا أَدْرِي أَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی ﷺ کی سواری لائی گئی، جب نبی ﷺ اس پر سوار ہوگئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَشْعَرَ الْهَدْيَ جَانِبَ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَحْرَمَ قَالَ فَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے تھے جب کہ حضرت ابن عباس رضی الہ عنہ ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی ﷺ نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کردی، پھر ہم نے وہ ڈول چاہ زمزم میں ڈال دیا (یوں نبی ﷺ کا پس خوردہ بھی اس میں شامل ہوگیا) اور نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے مغلوب ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچتا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا قَيْسٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَمْزَمَ فَنَزَعْنَا لَهُ دَلْوًا فَشَرِبَ ثُمَّ مَجَّ فِيهَا ثُمَّ أَفْرَغْنَاهَا فِي زَمْزَمَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا لَنَزَعْتُ بِيَدَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک دیہاتی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں ؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی بناء پر ؟ انہوں نے فرمایا ہم کنجوس ہیں اور نہ ہی ضرورت مند، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے پاس آئے، ان کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید (رض) بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی ﷺ نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ حضرت اسامہ (رض) کو دے دیا اور فرمایا تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا شَأْنُ آلِ مُعَاوِيَةَ يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ أَوْ حَاجَةٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا بُخْلٌ وَلَا حَاجَةٌ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَاسْتَسْقَى فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاءِ زَمْزَمَ فَسَقَيْنَاهُ فَشَرِبَ قَائِمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو الطفیل کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ (رض) خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ (رض) فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْحَجَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) اور امیر معاویہ (رض) کے ساتھ تھا، حضرت معاویہ (رض) خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ (رض) فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كُنْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمَا يَطُوفَانِ حَوْلَ الْبَيْتِ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَيْنِ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ وَالْأَسْوَدَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور خانہ کعبہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں حسب معمول چلتے رہے۔ ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ فرمایا سچ تو یہ ہے کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے صحابہ (رض) کو چھوڑ دو ، تاآنکہ یہ اسی طرح مرجائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مرجاتا ہے، جب انہوں نے نبی ﷺ سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آکر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی ﷺ آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں دیکھ کر نبی ﷺ نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا یہ سنت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ مَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ يَجِيئُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثًا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام (رض) کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، نبی ﷺ نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ فَلَمَّا رَمَلُوا قَالَتْ قُرَيْشٌ مَا وَهَنَتْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ مِنْ لَبَنٍ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ سخی انسان تھے اور اس سے بھی زیادہ سخی ماہ رمضان میں ہوتے تھے جبکہ جبرئیل امین (علیہ السلام) سے ان کی ملاقات ہوتی اور رمضان کی ہر رات میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی ﷺ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ صلی اللہ علیہ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ أَجْوَدِ النَّاسِ وَأَجْوَدُ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ يُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدَ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کے یہاں رات گذاری، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے تو مسواک فرمائی، وضو کیا اور سورت آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں طویل قیام اور رکوع و سجود کیا، اس کے بعد نبی ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر بیدار ہو کر وہی عمل دہرایا اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ صلی اللہ علیہ نماز پڑھانے کے لئے چلے گئے اور نبی ﷺ سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے زیادہ سے زیادہ نور عطا فرما۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَلَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَخَذَ سِوَاكَهُ فَاسْتَاكَ بِهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ حَتَّى قَرَأَ هَذِهِ الْآيَاتِ وَانْتَهَى عِنْدَ آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّى سَمِعْتُ نَفْخَ النَّوْمِ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ فَأَتَاهُ بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا
tahqiq

তাহকীক: