আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩৩২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال و دولت سے بھری ہوئی پوری وادی بھی ہو تو اس کی خواہش یہی ہوگی کہ اس جیسی ایک اور وادی بھی اس کے پاس ہو اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کرلیتا ہے اللہ اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں، اب یہ قرآن کا حصہ ہے یا نہیں ؟
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالًا لَأَحَبَّ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ مِثْلَهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے یہاں آیا، رات ان ہی کے یہاں گذاری، مجھے پتہ چلا کہ آج رات نبی ﷺ کی تقسیم کے مطابق شب باشی کی باری ان کی تھی۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں کہا جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ فجر کا وقت قریب آگیا ہے تو آپ ﷺ نے ذرا رک کر روشنی ہونے کے بعد نو رکعتیں پڑھی اور ان میں وتر کی نیت کرلی اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے رہے، جب روشنی ہوگئی تو نبی ﷺ دو رکعتیں پڑھ کر لیٹ رہے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) حاضر ہوئے اور نماز کی اطلاع دی، نبی ﷺ نے باہر تشریف لا کر اسی طرح نماز پڑھا دی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُنَيَّةً حَتَّى إِذَا أَضَاءَ لَهُ الصُّبْحُ قَامَ فَصَلَّى الْوَتْرَ تِسْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ وَتْرِهِ أَمْسَكَ يَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ فِي نَفْسِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ جَخِيفَهُ قَالَ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَنَبَّهَهُ لِلصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوگیا
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کر دوں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا وَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) ذکر فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے ایام والی عورت کو طواف وداع کرنے سے پہلے جانے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ طواف زیارت کرچکی ہو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کردیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْضِهِ عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ شادی کرلو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی ﷺ ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کرلو، چار سے نہ سہی)
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ بْنِ رَقَبَةَ عَنْ طَلْحَةَ الْإِيَامِيِّ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَنَا كَانَ أَكْثَرَنَا نِسَاءً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِي الْمَخْرَفَ صَدَقَةٌ عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جب حج کا احرام باندھا تو چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے اور فجر کی نماز ہمیں مقام بطحاء میں پڑھائی اور فرمایا جو چاہے اس احرام کو عمرہ کا احرام بنالے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى بِنَا الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ قَالَ مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو تم اس پر عمل نہ کرسکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ لَا بَلْ حَجَّةٌ فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں سے نکال کر اضطباع کیا اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا اور رمل بھی کیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَاضْطَبَعُوا وَجَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ وَوَضَعُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ثُمَّ رَمَلُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں نبی ﷺ بنو ہاشم کے ہم لوگوں سے فرمایا بھتیجو ! لوگوں کے رش سے پہلے نکل جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ يَا بَنِي أَخِي يَا بَنِي هَاشِمٍ تَعَجَّلُوا قَبْلَ زِحَامِ النَّاسِ وَلَا يَرْمِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْعَقَبَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے یہاں رات گذاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی ﷺ نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ رکوع میں سبحان ربی الاعلی کہتے رہے، پھر سر اٹھا کردو سجدوں کے درمیان یہ دعاء پڑھی کہ پروردگار ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطاء فرما، مجھ رزق عطاء فرما اور مجھے ہدایت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا كَامِلٌ عَنْ حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ قَالَ فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ قَالَ فَرَأَيْتُهُ قَالَ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ قَالَ ثُمَّ سَجَدَ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى قَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ " ذات عرق " میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس (رض) کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے جواب میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رویت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو ٣٠ دن کی گنتی پوری کرو
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ فَقَالَ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، تیرہ سال آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے، پھر ہجرت کا حکم ملا تو دس سال مدینہ منورہ میں گذارے اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو حاضر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آگیا اور ان سے حضرت ابن عمر (رض) کا جواب بھی ذکر کردیا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے ؟ فرمایا ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ فَقَالَ نَهَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ لَهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ صَدَقَ قَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار ! یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں ؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کردی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُهُمْ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أَيُّ بَنِيَّ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ سَنَةً قَالَ أَيْ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ فَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَوَهَبَ لَهُ مِنْ عُمْرِهِ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَ رُوحَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ أَجَلِي قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً فَقَالُوا إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَلَا وَهَبْتُ لَهُ شَيْئًا وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৩৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو تم اس پر عمل نہ کرسکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِىِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ أَبَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ
tahqiq

তাহকীক: