আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৪১৮৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز عشاء کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا سَمَرَ إِلَّا لِرَجُلَيْنِ أَوْ لِأَحَدِ رَجُلَيْنِ لِمُصَلٍّ وَلِمُسَافِرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت ابو موسیٰ (رض) اور سلمان بن ربیعہ (رض) کے پاس آیا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کسی شخص کے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک حقیقی بہن ہو تو تقسیم وراثت کس طرح ہوگی ؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ کل مال کا نصف بیٹی کو مل جائے گا اور دوسرا نصف بہن کو اور ہم نے حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس جا کر ان سے بھی یہ مسئلہ پوچھا اور مذکورہ حضرات کا جواب بھی نقل کیا، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اگر میں نے بھی یہی فتوی دیا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتگان میں سے نہ رہوں گا، میں وہی فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا، بیٹی کو کل مال کا نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ تاکہ دو ثلث مکمل ہوجائیں اور جو باقی بچے گا وہ بہن کو مل جائے گا، لوگوں نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کے پاس جا کر انہیں حضرت ابن مسعود (رض) کی رائے بتائی تو انہوں نے فرمایا جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں تم مجھ سے سوال نہ پوچھا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ عَنْ امْرَأَةٍ تَرَكَتْ ابْنَتَهَا وَابْنَةَ ابْنِهَا وَأُخْتَهَا فَقَالَ النِّصْفُ لِلِابْنَةِ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَقَالَ ائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنِي قَالَ فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُهْتَدِينَ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ وَجَدْتُ هَذَا الْحَرْفَ مَكْتُوبًا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ فَأَتَوْا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حدیبیہ سے رات کو واپس آ رہے تھے، ہم نے ایک نرم زمین پر پڑاؤ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا ہماری خبر گیری کون کرے گا ؟ (فجر کے لئے کون جگائے گا ؟ ) حضرت بلال (رض) نے اپنے آپ کو پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم بھی سوگئے تو ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں سوؤں گا، اتفاق سے ان کی بھی آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور فلاں فلاں صاحب بیدار ہوگئے ان میں حضرت عمر (رض) بھی تھے، انہوں نے سب کو اٹھایا، نبی ﷺ بھی بیدار ہوگئے اور فرمایا اسی طرح کرو جیسے کرتے تھے (نماز حسب معمول پڑھ لو) جب لوگ ایسا کرچکے تو فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سوجائے یا بھول جائے تو ایسے ہی کیا کرو۔ اسی دوران نبی ﷺ کی اونٹنی گم ہوگئی، نبی ﷺ نے اسے تلاش کروایا تو وہ مجھے اس حال میں مل گئی کہ اس کی رسی ایک درخت سے الجھ گئی تھی، میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی ﷺ اس پر خوش وخرم سوار ہوگئے اور نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو اس کی کیفیت نبی ﷺ پر بڑی شدید ہوتی تھی اور ہم وہ کیفیت دیکھ کر پہچان لیتے تھے، چناچہ اس موقع پر نبی ﷺ ایک طرف کو ہوگئے اور اپنا سر مبارک کپڑے سے ڈھانپ لیا اور نبی ﷺ پر سختی کی کیفیت طاری ہوگئی جسے ہم پہچان گئے کہ ان پر وحی نازل ہو رہی ہے، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ ہمارے پاس آئے تو ہمیں بتایا کہ ان پر سورت فتح نازل ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی اونٹنی کے علاوہ تمام اونٹ مل گئے، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا : یہاں جا کر تلاش کرو، میں متعلقہ جگہ پہنچا تو دیکھا کہ اس کی لگام ایک درخت سے الجھ گئی ہے، جسے ہاتھ سے ہی کھولنا ممکن تھا، میں اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس کی لگام درخت سے الجھی ہوئی دیکھی تھی جسے ہاتھ سے ہی کھولنا ممکن تھا اور پھر نبی ﷺ پر سورت فتح نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرُوا أَنَّهُمْ نَزَلُوا دَهَاسًا مِنْ الْأَرْضِ يَعْنِي الدَّهَاسَ الرَّمْلَ فَقَالَ مَنْ يَكْلَؤُنَا فَقَالَ بِلَالٌ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَنْ تَنَمْ قَالَ فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ نَاسٌ مِنْهُمْ فُلَانٌ وَفُلَانٌ فِيهِمْ عُمَرُ قَالَ فَقُلْنَا اهْضِبُوا يَعْنِي تَكَلَّمُوا قَالَ فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ قَالَ فَفَعَلْنَا قَالَ وَقَالَ كَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ قَالَ وَضَلَّتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَلَبْتُهَا فَوَجَدْتُ حَبْلَهَا قَدْ تَعَلَّقَ بِشَجَرَةٍ فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكِبَ مَسْرُورًا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ اشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَعَرَفْنَا ذَلِكَ فِيهِ فَتَنَحَّى مُنْتَبِذًا خَلْفَنَا قَالَ فَجَعَلَ يُغَطِّي رَأْسَهُ بِثَوْبِهِ وَيَشْتَدُّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى عَرَفْنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَأَتَانَا فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، نبی ﷺ نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو یوں کہنا چاہئے تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كُنَّا نَقُولُ فِي التَّحِيَّةِ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کردینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، میں نے کہا اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ أَجْلَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ أَوْ يَأْكُلَ طَعَامَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَأَنَا أَقُولُ أُخْرَى مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا أَقُولُ مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں تم میں سے کوئی شخص شیطان کو اپنی ذات پر ایک حصہ کے برابر بھی قدرت نہ دے اور یہ نہ سمجھے کہ اس کے ذمے دائیں طرف سے ہی واپس جانا ضروری ہے، میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کی واپسی اکثر بائیں جانب سے ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ الِانْصِرَافُ عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) نے میدان منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بھی اور حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش ! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ أَوْ إِبْرَاهِيمَ شُعْبَةُ شَكَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والا اور ہجرت کے بعد مرتد ہوجانے والے دیہاتی نبی ﷺ کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ وَشَاهِدَاهُ وَكَاتِبُهُ إِذَا عَلِمُوا وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ وَاَلْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ وَلَاوِي الصَّدَقَةِ وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہوجائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ النَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالتَّارِكُ دِينَهُ الْمُفَارِقُ أَوْ الْفَارِقُ الْجَمَاعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ سُلَيْمَانُ وَأَحْسَبُهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور اس کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، کیا ہوا ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر نبی ﷺ نے اپنے پاؤں موڑے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ فَقَالُوا إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ وَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَحَمَّادًا يُحَدِّثَانِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ لَا يَدْرِي أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ خَمْسًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے نبی ﷺ کے مبارک رخسار کی جو سفیدی دکھائی دیتی تھی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی میری نگاہوں کے سامنے موجود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ خَدِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَسْلِيمَتِهِ الْيُسْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے اور ہر درجہ اس کی نماز کے برابر ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُفَضِّلُ صَلَاةَ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ضِعْفًا كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جسم گدوانے والی، موچنے سے بالوں کو نچوانے والی اور دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اللہ کی تخلیق کو بدل دیتی ہیں اور نبی ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسَبُهُ قَالَ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ، میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لاسکا، نبی ﷺ نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا یہ گندگی ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَرَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَقَالَ لِي الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ قَالَ فَوَجَدْتُ لَهُ حَجَرَيْنِ وَرَوْثَةً قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ هَذِهِ رِكْسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْتَجِي اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمارے سامنے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے، پھر اس کے دائیں بائیں کچھ اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا کہ یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستے پر شیطان بیٹھا ہے اور ان راستوں پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے، اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " یہ میرا سیدھا راستہ ہے سو اس کی پیروی کرو، دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ تم اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ گے "
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطًّا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ مُسْتَقِيمًا قَالَ ثُمَّ خَطَّ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ هَذِهِ السُّبُلُ وَلَيْسَ مِنْهَا سَبِيلٌ إِلَّا عَلَيْهِ شَيْطَانٌ يَدْعُو إِلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ وَإِنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک یہودی گذرا، نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) سے گفتگو فرما رہے تھے، قریش کہنے لگے کہ اے یہودی ! یہ شخص اپنے آپ کو نبی سمجھتا ہے، وہ کہنے لگا کہ میں ان سے ایک ایسی بات پوچھوں گا جو کسی نبی کے علم میں ہی ہوسکتی ہے، چناچہ وہ آکر نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا اے محمد ﷺ انسان کی تخلیق کن چیزوں سے ہوتی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے یہودی ! مرد کے نطفہ سے بھی ہوتی ہے اور عورت کے نطفہ سے بھی، مرد کا نطفہ تو گاڑھا ہوتا ہے جس سے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں اور عورت کا نطفہ پتلا ہوتا ہے جس سے گوشت اور خون بنتا ہے، یہ سن کر وہ یہودی کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ آپ سے پہلے پیغمبر بھی یہی فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ يَا يَهُودِيُّ إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَقَالَ لَأَسْأَلَنَّهُ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ قَالَ فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مِمَّ يُخْلَقُ الْإِنْسَانُ قَالَ يَا يَهُودِيُّ مِنْ كُلٍّ يُخْلَقُ مِنْ نُطْفَةِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَةِ الْمَرْأَةِ فَأَمَّا نُطْفَةُ الرَّجُلِ فَنُطْفَةٌ غَلِيظَةٌ مِنْهَا الْعَظْمُ وَالْعَصَبُ وَأَمَّا نُطْفَةُ الْمَرْأَةِ فَنُطْفَةٌ رَقِيقَةٌ مِنْهَا اللَّحْمُ وَالدَّمُ فَقَامَ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ هَكَذَا كَانَ يَقُولُ مَنْ قَبْلَكَ
tahqiq

তাহকীক: