আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৪১৬৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) حج پر روانہ ہوئے، علقمہ نے مجھے ان کے ساتھ رہنے کا حکم دیا، چناچہ میں ان کے ساتھ ہی رہا۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی اور کہا کہ جب طلوع صبح صادق ہوئی تو انہوں نے فرمایا اقامت کہو، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ تو فجر کی نماز اس وقت نہیں پڑھتے ؟ (حضرت ابن مسعود (رض) خوب روشن کر کے نماز فجر پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا نبی ﷺ بھی یہ نماز اس وقت نہیں پڑھتے تھے لیکن میں نے نبی ﷺ کو اس دن، اس جگہ میں یہ نماز اسی وقت پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، یہ دو نمازیں ہیں جو اپنے وقت سے تبدیل ہوگئیں ہیں، ایک تو مغرب کی نماز کہ یہ لوگوں کے مزدلفہ میں آنے کے بعد ہوتی ہے اور دوسرے فجر کی نماز جو طلوع صبح صادق کے وقت ہوتی ہے اور میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ قَالَ حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَأَمَرَنِي عَلْقَمَةُ أَنْ أَلْزَمَهُ فَلَزِمْتُهُ فَكُنْتُ مَعَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَلَمَّا كَانَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ قَالَ أَقِمْ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ فِيهَا قَالَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتَيْهِمَا صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ وَصَلَاةُ الْغَدَاةِ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم تقریبا اسی آدمیوں کو جن میں عبداللہ بن مسعود، جعفر، عبداللہ بن عفطہ، عثمان بن مظعون اور ابو موسیٰ (رض) بھی شامل تھے، نجاشی کے یہاں بھیج دیا، یہ لوگ نجاشی کے پاس پہنچے تو قریش نے بھی عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کو تحائف دے کر بھیج دیا، انہوں نے نجاشی کے دربار میں داخل ہو کر اسے سجدہ کیا اور دائیں بائیں جلدی سے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ ہمارے بنو عم میں سے کچھ لوگ بھاگ کر آپ کے علاقے میں آگئے ہیں اور ہم سے اور ہماری ملت سے بےرغبتی ظاہر کرتے ہیں، نجاشی نے پوچھا وہ لوگ کہاں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ آپ کے علاقے میں ہیں، آپ انہیں اپنے پاس بلائیے، چناچہ نجاشی نے انہیں بلاوا بھیجا، حضرت جعفر (رض) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آج کے دن تمہارا خطیب میں بنوں گا، وہ سب راضی ہوگئے۔ انہوں نے نجاشی کے یہاں پہنچ کر اسے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا، لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ بادشاہ سلامت کو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ نہیں کرتے، نجاشی نے پوچھا کیا مطلب ؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا ہے، انہوں نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ نہ کریں، نیز انہوں نے ہمیں زکوٰۃ اور نماز کا حکم دیا ہے۔ عمرو بن عاص نے نجاشی سے کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بابت آپ کی مخالفت کرتے ہیں، نجاشی نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے بارے کیا کہتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم وہی کہتے ہیں جو اللہ فرماتا ہے کہ وہ روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں جسے اللہ نے اس کنواری دوشیزہ کی طرف القاء فرمایا تھا جسے کسی انسان نے چھوا تھا اور نہ ہی ان کے یہاں اولاد ہوگی، اس پر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر کہا اے گروہ حبشہ ! پادریو ! اور راہبو ! واللہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اس تنکے سے بھی کوئی بات زیادہ نہیں کہتے، میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں اور اس شخص کو بھی جس کی طرف سے تم آئے ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انجیل میں ہم ان ہی کا ذکر پاتے ہیں اور یہ وہی پیغمبر ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی، تم جہاں چاہو رہ سکتے ہو، اگر امور سلطنت کا معاملہ نہ ہوتا تو بخدا ! میں ان کی خدمت میں حاضر ہوتا، ان کے نعلین اٹھاتا اور انہیں وضو کراتا، پھر اس نے عمرو بن عاص اور عمارہ کا ہدیہ واپس لوٹا دینے کا حکم دیا جو انہیں لوٹا دیا گیا، اس کے بعد حضرت ابن مسعود (رض) وہاں سے جلدی واپس آگئے تھے اور انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی اور ان کا یہ کہنا تھا کہ جب نبی ﷺ کو نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو نبی ﷺ نے اس کے لئے استغفار کیا تھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ حُدَيْجًا أَخَا زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَجَعْفَرٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَأَبُو مُوسَى فَأَتَوْا النَّجَاشِيَّ وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ فَلَمَّا دَخَلَا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا لَهُ ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَا لَهُ إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا قَالَ فَأَيْنَ هُمْ قَالَ هُمْ فِي أَرْضِكَ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا خَطِيبُكُمْ الْيَوْمَ فَاتَّبَعُوهُ فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ فَقَالُوا لَهُ مَا لَكَ لَا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ قَالَ إِنَّا لَا نَسْجُدُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْجُدَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ قَالَ مَا تَقُولُونَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ قَالُوا نَقُولُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا بَشَرٌ وَلَمْ يَفْرِضْهَا وَلَدٌ قَالَ فَرَفَعَ عُودًا مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ وَالْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى الَّذِي نَقُولُ فِيهِ مَا يَسْوَى هَذَا مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ فَإِنَّهُ الَّذِي نَجِدُ فِي الْإِنْجِيلِ وَإِنَّهُ الرَّسُولُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ انْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ وَاللَّهِ لَوْلَا مَا أَنَا فِيهِ مِنْ الْمُلْكِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ وَأُوَضِّئُهُ وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الْآخَرِينَ فَرُدَّتْ إِلَيْهِمَا ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৬৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو اسحاق (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو اسود بن یزید سے جو کہ لوگوں کو مسجد میں قرآن پڑھا رہے تھے یہ پوچھتے ہوئے دیکھا کہ آپ اس حرف " فہل من مد کر " کو دال کے ساتھ پڑھتے ہیں یا ذال کے ساتھ ؟ انہوں نے فرمایا دال کے ساتھ، میں نے حضرت ابن مسعود (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ لفظ دال کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَذَالٌ أَمْ دَالٌ فَقَالَ لَا بَلْ دَالٌ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ دَالًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھ سے پہلے اللہ نے جس امت میں بھی کسی نبی کو مبعوث فرمایا ہے، اس کی امت میں سے ہی اس کے حواری اور اصحاب بھی بنائے جو اس نبی کی سنت پر عمل کرتے اور ان کے حکم کی اقتداء کرتے، لیکن ان کے بعد کچھ ایسے نااہل آجاتے جو وہ بات کہتے جس پر خود عمل نہ کرتے اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہ دیا گیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي الْمَخْرَمِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَطُّ إِلَّا وَلَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ حَوَارِيٌّ وَأَصْحَابٌ يَتَّبِعُونَ أَثَرَهُ وَيَقْتَدُونَ بِهَدْيِهِ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ خَوَالِفُ أُمَرَاءُ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمَوْشُومَةَ وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھا کہ نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی ﷺ کے منہ سے نکلتے ہی یاد کرلیا، البتہ مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے کون سی آیت ختم کی " فبای حدیث بعدہ یؤمنون " یا " و اذا قیل لہم ارکعوا یا یرکعون "
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَارِ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَقَرَأْتُهَا قَرِيبًا مِمَّا أَقْرَأَنِي غَيْرَ أَنِّي لَسْتُ أَدْرِي بِأَيِّ الْآيَتَيْنِ خَتَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سورت نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کرلیا، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ إِلَّا رَجُلًا رَفَعَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَوَضَعَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً وَأَنَا أَقُولُ أُخْرَى مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا أَقُولُ مَنْ مَاتَ وَهُوَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہوگا اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا حَتَّى كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کرلو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہوگا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا عَمِلْنَا فِي الشِّرْكِ نُؤَاخَذُ بِهِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الشِّرْكِ وَمَنْ أَسَاءَ مِنْكُمْ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِمَا عَمِلَ فِي الشِّرْكِ وَالْإِسْلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ایک دن حضرت ابن مسعود (رض) فرمانے لگے کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ لوگ میرا انتظار کر رہے ہیں، میں آپ کے پاس صرف اس وجہ سے نہیں آیا کہ میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کرنا اچھا نہیں سمجھتا اور نبی ﷺ بھی وعظ و نصیحت میں اسی وجہ سے بعض دنوں کو خالی چھوڑ دیتے تھے کہ وہ بھی ہمارے اکتا جانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَأُخْبَرُ بِجَمَاعَتِكُمْ فَيَمْنَعُنِي الْخُرُوجَ إِلَيْكُمْ خَشْيَةُ أَنْ أُمِلَّكُمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا فِي الْأَيَّامِ بِالْمَوْعِظَةِ خَشْيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ فجر کی نماز کے بعد حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر انہیں سلام کیا، ہمیں اجازت مل گئی، ایک آدمی کہنے لگا کہ میں ایک رات میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا اشعار کی طرح ؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں جن میں سے اٹھارہ سورتیں مفصلات میں ہیں اور دو سورتیں آل حم میں ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ يَوْمٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأُذِنَ لَنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ كُلَّهُ فَقَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، میں نے کہا اس کے بعد کونسا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِثْمِ أَعْظَمُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک دن نبی ﷺ ابوبکر (رض) کے ساتھ مشرکین سے بچ کر نکلتے ہوئے میرے پاس سے گذرے اور فرمایا اے لڑکے ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، لیکن میں اس پر امین ہوں، لہذا میں آپ کو کچھ پلا نہیں سکوں گا نبی ﷺ نے فرمایا کیا کوئی ایسی بکری تمہارے پاس ہے جس پر نر جانور نہ کو دا ہو ؟ میں نبی ﷺ کے پاس ایسی بکری لے کر آیا، نبی ﷺ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو اس میں دودھ اتر آیا، نبی ﷺ نے اسے ایک برتن میں دوہا، خود بھی پیا اور حضرت ابوبکر (رض) کو بھی پلایا، پھر تھن سے مخاطب ہو کر فرمایا سکڑ جاؤ، چناچہ وہ تھن دوبارہ سکڑ گئے، تھوڑی دیر بعد میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے بھی یہ بات سکھا دیجئے، نبی ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی کہ اللہ تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، تم سمجھدار بچے ہو میں نے نبی ﷺ مبارک منہ سے سستر سورتیں یاد کی ہیں جن میں مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ غُلَامًا يَافِعًا أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَقَدْ فَرَّا مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَا يَا غُلَامُ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ لَبَنٍ تَسْقِينَا قُلْتُ إِنِّي مُؤْتَمَنٌ وَلَسْتُ سَاقِيَكُمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عِنْدَكَ مِنْ جَذَعَةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ قُلْتُ نَعَمْ فَأَتَيْتُهُمَا بِهَا فَاعْتَقَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ الضَّرْعَ وَدَعَا فَحَفَلَ الضَّرْعُ ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ شَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدْ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور مشرکین کے زخمیوں کی دیکھ بھال کر رہی تھیں، اگر میں قسم کھا کر کہوں تو میری قسم صحیح ہوگی (اور میں اس میں حانث نہیں ہوں گا) کہ اس دن ہم میں سے کوئی شخص دنیا کا خواہش مند نہ تھا، یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی تم میں سے بعض لوگ دنیا چاہتے ہیں اور بعض لوگ آخرت، پھر اللہ نے تہیں ان سے پھیر دیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے۔ جب نبی ﷺ کے صحابہ نے حکم نبوی کی مخالفت نہ کرتے ہوئے اس کی تعمیل نہ کی تو نبی ﷺ صرف نو افراد کے درمیان تنہا رہ گئے جن میں سات انصاری اور دو قریشی تھے، دسویں خود نبی ﷺ تھے، جب مشرکین نے نبی ﷺ پر ہجوم کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جو انہیں ہم سے دور کرے، یہ سن کر ایک انصاری آگے بڑھا، کچھ دیر قتال کیا اور شہید ہوگیا، اسی طرح ایک ایک کر کے ساتوں انصاری صحابہ (رض) شہید ہوگئے، یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ تھوڑی دیر بعد ابو سفیان آیا (جنہوں نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) اور ہبل کی جے کاری کا نعرہ لگانے لگا نبی ﷺ نے فرمایا اسے جواب دو کہ اللہ ہمارا مولیٰ اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں، پھر ابو سفیان نے کہا کہ آج کا دن جنگ بدر کا بدلہ ہے، ایک دن ہمارا اور ایک دن ہم پر، ایک دن ہمیں تکلیف ہوئی اور ایک ہم خوش ہوئے، حنظلہ حنظلہ کے بدلے، فلاں فلاں کے بدلے اور فلاں فلاں کے بدلے، نبی ﷺ نے فرمایا تم میں اور ہم میں پھر بھی کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں اور رزق پاتے ہیں جبکہ تمہارے مقتولین جہنم کی آگ میں سزا پاتے ہیں۔ پھر ابو سفیان نے کہا کہ کچھ لوگوں کی لاشوں کا مثلہ کیا گیا ہے، یہ ہمارے سرداروں کا کام نہیں ہے، میں نے اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے روکا، میں اسے پسند کرتا ہوں اور نہ ہی ناگواری ظاہر کرتا ہوں، مجھے یہ برا لگا اور نہ ہی خوشی ہوئی، صحابہ کرام (رض) نے جب دیکھا تو حضرت حمزہ (رض) کا پیٹ چاک کردیا گیا تھا اور ابو سفیان کی بیوی ہندہ نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا تھا لیکن اسے کھا نہیں سکی تھی، نبی ﷺ نے ان کی لاش دیکھ کر پوچھا کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا بھی ہے ؟ صحابہ (رض) نے بتایا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ حمزہ (رض) کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں کرنا چاہتا، پھر نبی ﷺ نے ان کی لاش کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر ایک انصاری کا جنازہ لایا گیا اور حضرت حمزہ (رض) کے پہلو میں رکھ دیا گیا نبی ﷺ نے ان کی بھی نماز جنازہ پڑھائی، پھر اس کا جنازہ اٹھا لیا گیا اور حضرت حمزہ (رض) کا جنازہ یہیں رہنے دیا گیا، اس طرح اس دن حضرت حمزہ (رض) کی نماز جنازہ ستر مرتبہ ادا کی گئی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَاءَ كُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِينَ يُجْهِزْنَ عَلَى جَرْحَى الْمُشْرِكِينَ فَلَوْ حَلَفْتُ يَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَّا يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِهِ أُفْرِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِسْعَةٍ سَبْعَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ عَاشِرُهُمْ فَلَمَّا رَهِقُوهُ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَةً حَتَّى قُتِلَ فَلَمَّا رَهِقُوهُ أَيْضًا قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ رَجُلًا رَدَّهُمْ عَنَّا فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَا حَتَّى قُتِلَ السَّبْعَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِبَيْهِ مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ اعْلُ هُبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ فَقَالُوا اللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ لَنَا عُزَّى وَلَا عُزَّى لَكُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُ مَوْلَانَا وَالْكَافِرُونَ لَا مَوْلَى لَهُمْ ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَوْمٌ بِيَوْمِ بَدْرٍ يَوْمٌ لَنَا وَيَوْمٌ عَلَيْنَا وَيَوْمٌ نُسَاءُ وَيَوْمٌ نُسَرُّ حَنْظَلَةُ بِحَنْظَلَةَ وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا سَوَاءً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْيَاءٌ يُرْزَقُونَ وَقَتْلَاكُمْ فِي النَّارِ يُعَذَّبُونَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَدْ كَانَتْ فِي الْقَوْمِ مُثْلَةٌ وَإِنْ كَانَتْ لَعَنْ غَيْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَأَمَرْتُ وَلَا نَهَيْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا كَرِهْتُ وَلَا سَاءَنِي وَلَا سَرَّنِي قَالَ فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَكَلَتْ مِنْهُ شَيْئًا قَالُوا لَا قَالَ مَا كَانَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَجِيءَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوُضِعَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَرُفِعَ الْأَنْصَارِيُّ وَتُرِكَ حَمْزَةُ ثُمَّ جِيءَ بِآخَرَ فَوَضَعَهُ إِلَى جَنْبِ حَمْزَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِكَ حَمْزَةُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ صَلَاةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ (رض) سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا وہ ہدیہ جو تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو پیش کرے خواہ وہ روپیہ پیسہ ہو، خواہ جانور کی پشت (سواری) ہو خواہ بکری کا دودھ ہو یا گائے کا دودھ۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الْمَنِيحَةُ أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الدِّرْهَمَ أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ أَوْ لَبَنَ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی۔ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَوْ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ وَاسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا قَالَ أَوْ قَالَ مِنْ عُقُلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ابتداء میں ہم لوگ نماز کے دوران بات چیت اور سلام کرلیتے تھے اور ایک دوسرے کو ضرورت کے مطابق بتا دیتے تھے، ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو سلام کیا تو حضور اکرم ﷺ نے جواب نہ دیا، مجھے نئے پرانے خیالات نے گھیر لیا، نبی ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو نیا حکم دینا چاہتا ہے دے دیتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ دوران نماز بات چیت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ لِنَبِيِّهِ مَا شَاءَ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ مِمَّا شَاءَ وَإِنَّ مِمَّا أَحْدَثَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، لوگوں نے پوچھا کہ کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے تو نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا فَقَالُوا أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
তাহকীক: